مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ ضاحیہ پر ہونے والے آخری حملے میں حزب اللہ کے انٹیلی جنس ذمہ دار اور ان کے اہل خانہ شہید ہوئے تو ہم نے اسی وقت تمام معاملات روک دیے۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے واضح کردیا کہ آج رات ہم اسرائیل کو نشانہ بنائیں گے اور اگر صہیونی حکومت نے جواب دیا تو ہم پورے خطے کو نشانہ بنائیں گے۔
قالیباف نے مزید کہا کہ ہماری بات چیت کا نتیجہ یہ نکلا کہ اسی رات محاصرہ اٹھا لیا گیا۔ ٹرمپ نے ایک پیغام جاری کرکے کہا کہ ہم آج رات محاصرہ اٹھا رہے ہیں، البتہ ایرانی بھی آبنائے ہرمز کھولیں گے۔
انہوں نے کہا کہ جب میں نے یہ پیغام دیکھا تو میں نے اس کی مخالفت کی اور کہا کہ ہمارا ایسا کوئی معاہدہ نہیں ہے۔ میں نے ثالثوں سے کہا کہ اگر ابھی ٹرمپ کا یہ پیغام واپس نہ لیا گیا تو ہم کارروائی کریں گے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے کہا کہ میری درخواست ہے کہ آپ اس معاملے کی تاریخ دیکھیں، 58 منٹ بعد ٹرمپ نے اپنے پیغام کا دوسرا حصہ حذف کردیا اور لکھا کہ آبنائے ہرمز ہفتے کے روز سے معاہدے کے دائرہ کار میں کھولی جائے گی۔ یہ مذاکرات دراصل مقاومت ہی ہیں۔
قالیباف نے لبنان کے حوالے سے اپنے تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ میں 1985 سے لبنان کے معاملات میں مصروف ہوں۔ لبنان کے ایک ایک شہید کے ساتھ میری دوستی اور رفاقت رہی ہے اور آج بھی لبنان کی اگلی صفوں میں موجود مجاہدین کے ساتھ میرا رابطہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے مزاحمتی محاذ اور لبنان کو تفاهم نامه کی پہلی شق میں شامل کیا۔ جبکہ ابتدائی 15 نکاتی مسودے میں امریکہ کا مطالبہ تھا کہ ایران میزائل پروگرام، جوہری معاملے، مقاومتی محاذ اور آبنائے ہرمز سے دستبردار ہوجائے۔
قالیباف نے کہا کہ ٹرمپ نے بالآخر مزاحمتی محاذ کو تسلیم کرنے پر فارسی زبان میں دستخط کیے ہیں۔
آپ کا تبصرہ